پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے

اسلام آباد: ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی اور امریکہ ایران معاہدے کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی کے امکانات ایک بار پھر روشن ہو گئے ہیں۔

حالیہ سفارتی پیش رفت کے تحت ایران کو محدود معاشی ریلیف اور پابندیوں میں نرمی ملے گی، جس کے بعد توانائی کے شعبے میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ، جسے ’’امن پائپ لائن‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کئی برسوں سے امریکی پابندیوں اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث التوا کا شکار ہے۔

یہ منصوبہ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے پاکستان کو قدرتی گیس فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم پاکستان نے ماضی میں پابندیوں کے خدشات کے باعث اس پر پیش رفت محدود رکھی۔

توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے پر غور کرسکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ماضی میں اس منصوبے کے پاکستانی حصے پر محدود تعمیراتی کام کی منظوری دے چکا ہے تاکہ ممکنہ جرمانوں اور قانونی تنازعات سے بچا جاسکے۔ گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی نہ صرف پاکستان کی توانائی قلت میں کمی لا سکتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بھی نئی تقویت دے سکتی ہے۔

منصوبے کی مکمل بحالی کا انحصار مستقبل میں پابندیوں کی صورتحال، علاقائی سیاسی حالات اور پاکستان کی توانائی پالیسی پر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے