نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان نے مسئلہ فلسطین کو مشرقِ وسطیٰ میں بدامنی اور مسلسل عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ، شہریوں کی جبری بے دخلی اور وسیع پیمانے پر تباہی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی تنصیبات اور یو این آر ڈبلیو اے پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت طے شدہ امن منصوبے پر مکمل اور فوری عملدرآمد کیا جائے۔
پاکستانی مندوب نے فوری اور مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور غزہ کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیرِ نو کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ایک خودمختار فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی غیر متزلزل ہے اور اسرائیل کو شام اور لبنان میں اپنی غیر قانونی کارروائیاں بھی فوری طور پر بند کرنی چاہئیں کیونکہ یہ اقدامات پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔