برف اور شدید سردی نے امریکا کو جکڑ لیا، لاکھوں افراد متاثر

واشنگٹن: امریکا میں شدید برفانی طوفان کے بعد مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو گئے ہیں، جہاں برف باری اور برفانی بارش کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں شہری بجلی کی بندش اور شدید سردی کا سامنا کر رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق نیو میکسیکو سے نیو انگلینڈ تک ایک فٹ سے زائد برف پڑی، جس کے باعث شاہراہیں بند ہو گئیں اور ٹریفک کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔

نیویارک، میساچوسٹس، ٹیکساس، نارتھ کیرولائنا اور دیگر کئی ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ 25 سے زائد ریاستوں کے گورنرز نے ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

جنوبی ریاستوں میں بھی کئی دہائیوں بعد غیر معمولی سرد موسم ریکارڈ کیا گیا، جہاں بھاری برف باری کے باعث درخت اور بجلی کی ترسیلی لائنیں گر گئیں۔ نیویارک شہر میں سردی سے کم از کم پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ٹیکساس، آرکنساس اور پنسلوانیا میں بھی مختلف حادثات میں اموات رپورٹ ہوئیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اگرچہ طوفان مشرقی ساحلی علاقوں سے گزر چکا ہے، تاہم کینیڈا سے آنے والی شدید سرد ہوائیں آئندہ چند دنوں تک درجہ حرارت کو نقطہ انجماد سے نیچے رکھیں گی۔ تقریباً 20 کروڑ امریکی مختلف سطح کے شدید سردی کے انتباہات کے تحت ہیں۔

برفانی طوفان کے باعث فضائی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا، جہاں اتوار کو 12 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ پیر کو بھی ہزاروں پروازیں منسوخی کا شکار ہوئیں۔ کئی علاقوں میں تعلیمی ادارے بند کر کے آن لائن کلاسز کا اعلان کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے