اسلام آباد: اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی امن مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے کو ہے، جسے سفارتی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے چیف ایڈیٹر ورلڈ واچ الرٹ آصف علی بھٹی نے مذاکرات سے متعلق اندرونی معلومات فراہم کی ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات بھی سامنے آئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، اور 11 اپریل کو ہونے والے پہلے براہ راست مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی تھے۔
آصف علی بھٹی کے مطابق پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں، اور اسی تناظر میں اعلیٰ حکومتی و عسکری قیادت نے سعودی عرب اور ایران کے دورے کیے تاکہ اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابتدائی مذاکرات کے دوران ایران نے خیرسگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا، جسے مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں جاری دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے شریک ہیں، جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی حکام شامل ہیں۔ مذاکرات کا ایجنڈا 8 سے 10 نکات پر مشتمل ایک فریم ورک پر مبنی بتایا جا رہا ہے۔
اہم امور میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت شامل ہے، خاص طور پر افزودہ یورینیم کی صورتحال اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی ممکنہ نگرانی زیر غور ہے۔
اس کے علاوہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور بیرون ملک موجود منجمد اثاثوں کی بحالی بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مستقبل میں ممکنہ امریکی یا اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ بھی زیر بحث آیا ہے۔
مزید برآں، یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ مجوزہ معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں۔
تاحال مذاکرات کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری ہے اور آئندہ پیش رفت کا امکان موجود ہے۔