میناب سکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کے نام خط

تہران: ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر میناب میں 28 فروری 2026ء کو ہونے والے مہلک فضائی حملے کے بعد سوگوار والدین نے دنیا کے نمایاں مذہبی رہنما پوپ لیو چودہویں کے نام ایک درد بھرا خط ارسال کیا ہے۔

اس خط میں 168 معصوم بچوں کے والدین نے اپنے دکھ، بے بسی اور امن کی اپیل کو ایسے الفاظ میں بیان کیا ہے جو ہر سننے اور پڑھنے والے کے دل کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے گئے فوجی آپریشن “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران پیش آیا، جس میں کروز میزائلوں نے میناب شہر کو نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں ایک پرائمری اسکول بھی تباہ ہوا جہاں درجنوں بچے اور اساتذہ موجود تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 110 بچے، 26 اساتذہ اور 4 والدین شامل ہیں، جو اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش میں جان کی بازی ہار گئے۔

سوگوار والدین کی جانب سے لکھے گئے خط کا آغاز اسلامی روایت کے مطابق “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” سے کیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ اپیل مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانیت کے نام کی گئی ہے۔

خط میں والدین نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اپنے بچوں کے وجود کی گرمی کو محسوس کرنے کے بجائے اب ان کے جلے ہوئے بستوں اور خون آلود کاپیوں کو سینے سے لگانے پر مجبور ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ ان کے بچے اب کبھی واپس نہیں آئیں گے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں مزید بچوں کو اس انجام سے بچایا جائے۔

انہوں نے پوپ سے اپیل کی کہ وہ اپنی آواز کو مزید بلند کریں اور جنگ بندی کے لیے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کریں، تاکہ “گفتگو کے تمام راستے” کھل سکیں اور مزید ہتھیار بنانے کا عمل روکا جا سکے۔

یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ اور عالمی قیادت کی جانب سے اس واقعے پر سخت ردعمل سامنے نہیں آیا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

پوپ لیو چودہویں نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں جنگ بندی اور سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیا تھا، اور خاص طور پر اسکولوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے