اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تاریخی سہ فریقی مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کو ایک ہی میز پر بٹھایا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے اور عالمی سطح پر اس عمل کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ایرانی وفد 11 اپریل کی سحر 1:20 پر اسلام آباد پہنچا، جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت 71 رکنی اعلیٰ سطحی وفد بھی ان کے ہمراہ تھا۔ وفد میں دفاعی، مالی، سفارتی اور پارلیمانی شخصیات شامل ہیں۔ نور خان ایئربیس پر ان کا استقبال پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے کیا، جبکہ ملاقاتوں کے دوران ایران نے اپنے 10 نکاتی ایجنڈے اور جنگ بندی سے متعلق تحفظات بھی پیش کیے۔
دوسری جانب امریکی وفد صبح 10:25 پر اسلام آباد پہنچا، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ وفد میں مشرقِ وسطیٰ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، سابق مشیر جیرڈ کشنر اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام شامل تھے۔ امریکی قیادت نے مذاکرات کو مشروط امید کے ساتھ دیکھتے ہوئے ایران سے نیک نیتی اور عملی پیش رفت کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد میں دونوں وفود کی الگ الگ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل عاصم منیر شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکراتی فریم ورک کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں جیسے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی۔
بعد ازاں شام 6 بجے شروع ہونے والے پہلے دور میں براہِ راست سہ فریقی مذاکرات ہوئے جو دو گھنٹے جاری رہے۔ ذرائع کے مطابق اس مرحلے میں آبنائے ہرمز، جنگ بندی اور اقتصادی پابندیوں پر شدید بحث ہوئی، جبکہ کچھ نکات پر ڈیڈلاک بھی سامنے آیا۔ اس کے باوجود تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
رات گئے ماہرین کی سطح پر دوسرا دور ہوا جو چار گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اس میں اقتصادی، عسکری اور قانونی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بعض معاملات پر جزوی پیش رفت ہوئی، خاص طور پر ایران کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے، تاہم آبنائے ہرمز کے معاملے پر اختلاف برقرار رہا۔ دونوں فریقین نے آئندہ مذاکرات جاری رکھنے اور تحریری تجاویز کے تبادلے پر اتفاق کیا۔
مجموعی طور پر اسلام آباد مذاکرات کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں پاکستان کی میزبانی میں فریقین پہلی بار اس سطح پر براہِ راست اور بالواسطہ رابطے میں آئے۔ اگرچہ بنیادی اختلافات برقرار ہیں، لیکن مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ خطے میں ممکنہ استحکام کی ایک نئی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔