واشنگٹن: متعدد ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انہیں عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت اور تباہ کن نوعیت کی دھمکیاں نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ قیادت نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ کسی پوری تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دینا انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے مترادف ہے اور اس پر فوری اور فیصلہ کن ردعمل ضروری ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ کانگریس کو فوری طور پر اجلاس میں واپس آ کر اس ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، اس سے پہلے کہ صورتحال مزید بگڑ کر عالمی سطح کے تنازع میں تبدیل ہو جائے۔
کانگریس مین رابرٹ گارسیا نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ “اپنے ہوش و حواس کھو چکے ہیں” اور ان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ صدر کی کابینہ اور قریبی ساتھیوں کو آئین سے وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 25ویں ترمیم کے تحت کارروائی پر غور کرنا چاہیے تاکہ انہیں عہدے سے ہٹایا جا سکے۔
اسی طرح کانگریس وومن ایڈیلیٹا گریجالوا نے کہا کہ ٹرمپ ذہنی طور پر غیر مستحکم ہیں اور حکمرانی کے اہل نہیں رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کانگریس کارروائی نہیں کرتی تو صدر کی اپنی کابینہ کو آئینی اختیار استعمال کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کی دھمکی دینا کسی بھی طرح طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک غیر قانونی اقدام ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس وومن یاسمین انصاری نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کی زبان انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے اور یہ بیانات ایرانی شہریوں کے خلاف ممکنہ نسل کشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو عالمی تاریخ کا ایک نازک موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس خطرے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
کانگریس مین مورگن میک گاروی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس بے بس نہیں ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ 25ویں آئینی ترمیم کو استعمال میں لایا جائے تاکہ کسی بڑے بحران کو روکا جا سکے۔
کانگریس وومن میلانیا اسٹینسبری نے کہا کہ یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ کھلی دھمکیوں اور ممکنہ جنگی جرائم کا ہے۔ انہوں نے ریپبلکن ارکان پر زور دیا کہ وہ پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر ملک اور دنیا کے مفاد میں درست فیصلہ کریں۔
سابق امریکی نائب صدر کامالا ہیرس نے بھی ان بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی پالیسیوں نے نہ صرف امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ امریکہ کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام ایسی جنگ کی حمایت نہیں کرتے جو بغیر حکمت عملی کے شروع کی گئی ہو۔