آسیہ اندرابی اور دختران ملت کی دیگر رہنماؤں کو سنگین سزائیں، غیر انسانی سزاؤں پر اہل کشمیر برہم

سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر سے ایک نہایت اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حریت رہنما اور تنظیم دختران ملت کی چیئرپرسن سیدہ آسیہ اندرابی کو بھارتی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جو ان کی زندگی کے آخری سانس تک برقرار رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق، سیدہ آسیہ اندرابی کے ساتھ ان کی قریبی ساتھی نہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو بھی عدالت نے 30، 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ان تینوں خواتین پر بھارت مخالف سرگرمیوں اور علیحدگی پسند تحریک میں کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

دوسری جانب، سیدہ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو پہلے ہی طویل عرصے سے جیل میں قید ہیں اور انہیں بھی عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جو ان کی زندگی کے اختتام تک جاری رہے گی۔ اس طرح یہ جوڑا مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں پہلا جوڑا بن گیا ہے جسے بیک وقت عمر قید کی سزا دی گئی ہو۔

کشمیری عوام، انسانی حقوق کے کارکنان اور مبصرین اس فیصلے کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سزائیں نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہیں، جن میں آزادیِ اظہار، منصفانہ ٹرائل اور سیاسی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔

اس نوعیت کے فیصلے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور سیاسی اختلاف رائے کو دبانے کے مترادف ہیں۔

اس فیصلے کے بعد نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ عالمی سطح پر بھی اس پر بحث اور ردعمل میں شدت آ رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے