تحریر: سید فیروز احمد
حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، عالمی تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ایران کے اہم تیل بردار مرکز "خارگ جزیرہ” سمیت کئی اسٹریٹجک مقامات پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔ اگرچہ بعض میڈیا رپورٹس خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں، تاہم مجموعی صورتحال بدستور حساس اور پیچیدہ ہے۔
ایران اور امریکہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے جغرافیائی و سیاسی حریف رہے ہیں۔ حالیہ فوجی سرگرمیاں، فضائی حملے اور خطے میں جاری تنازعات میں شمولیت نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایران عراق، شام اور یمن جیسے ممالک میں اثر و رسوخ رکھتا ہے، جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے خطے میں فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کسی بھی قسم کی غلطی یا miscalculation خطے کے استحکام کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی صورتحال نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
چین، جو ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کا ردعمل زیادہ تر معاشی یا سفارتی نوعیت کا ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ روس، یورپی یونین اور خلیجی ممالک بھی اس پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ کشیدگی میں اضافہ عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور سفارتی تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔آبنائے ہرمز اس تنازعے کا ایک نہایت اہم پہلو ہے۔ عمان اور ایران کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔
یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکہ اس علاقے میں باقاعدگی سے بحری گشت کرتا ہے تاکہ بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔تیل کی عالمی منڈی اس قسم کی کشیدگی کے لیے انتہائی حساس ہوتی ہے۔ ایران کی تیل برآمدات کو معمولی خطرہ بھی قیمتوں میں 5 سے 15 فیصد تک اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ کسی بڑے تنازعے کی صورت میں قیمتوں میں مزید نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ، بجلی اور دیگر خدمات کی لاگت کو بڑھا دیتی ہیں، جس سے عوام اور کاروباری حلقے متاثر ہوتے ہیں۔عام شہریوں کے لیے ان اثرات کا سامنا بالواسطہ مگر واضح ہوتا ہے۔ پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان بھی مہنگا ہو جاتا ہے۔
روزمرہ زندگی جاری رہتی ہے، مگر مہنگائی کا دباؤ نمایاں محسوس ہوتا ہے۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ ایک بڑے تیل اور گیس درآمد کرنے والے ملک کی حیثیت سے، عالمی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایران کے ساتھ سرحدی قربت کے باعث سیکیورٹی خدشات بھی براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔موجودہ سیاسی حالات میں پاکستان کو نہایت محتاط سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ اسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ مثبت روابط قائم رکھنے اور امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی۔
فوجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو فی الحال مکمل جنگ کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک اس کے سنگین سیاسی اور معاشی نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ محدود فوجی کارروائیاں، فضائی حملے اور پراکسی تنازعات زیادہ ممکن ہیں، جبکہ مکمل جنگ کا امکان کم ہے۔ موجودہ صورتحال کو براہِ راست جنگ کے بجائے ایک کشیدہ تعطل (tense standoff) کہا جا سکتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے تین ممکنہ منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا، سفارتی حل جس میں مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ دوسرا، محدود تنازع جس میں چھوٹی سطح کی فوجی جھڑپیں ہو سکتی ہیں۔ تیسرا، کشیدگی میں اضافہ، جو اگرچہ کم امکان رکھتا ہے مگر کسی غلط اندازے کی صورت میں بڑے تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔
زیادہ امکان یہی ہے کہ صورتحال کشیدہ رہے گی، وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوں گی اور اس کے معاشی اثرات سامنے آئیں گے، تاہم مکمل جنگ سے گریز کیا جائے گا۔ چین، روس اور یورپی یونین جیسے عالمی کردار اس صورتحال کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔نتیجہایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے لے کر پاکستان اور یورپ تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں اور تجارتی رکاوٹیں مہنگائی میں اضافے، معیشت پر دباؤ اور عالمی غیر یقینی صورتحال کو جنم دے سکتی ہیں۔
اگرچہ مکمل جنگ کا امکان کم ہے، تاہم محتاط سفارتکاری، بین الاقوامی دباؤ اور علاقائی تعاون اس کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ متوازن پالیسی اپناتے ہوئے امن، مکالمے اور استحکام کو فروغ دیں۔