جناح کی ذہانت: وہ شخصیت جس نے 23 مارچ 1940 کو سوال ہی بدل دیا

لاہور: تاریخ اکثر خود کو خوبصورت بنا کر پیش کرتی ہے۔ وہ ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ قومیں عظیم لمحات میں جنم لیتی ہیں، جوشیلے خطبات اور اجتماعی بیداری کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے واقعات ناگزیر تھے، جیسے ان کے سوا کوئی راستہ ہی نہ تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاریخ شور سے نہیں بلکہ فکری وضاحت سے بدلتی ہے۔

مارچ 1940 میں لاہور میں یہی وضاحت محمد علی جناح کی صورت میں سامنے آئی۔اس لمحے کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک اور منظر سے آغاز کرنا ہوگا: ایک مذاکراتی کمرہ، جہاں سکون، شائستگی اور بظاہر مہذب گفتگو جاری تھی۔ ایک طرف لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن بیٹھے تھے، جو ایک ایسی سلطنت کی نمائندگی کر رہے تھے جو تقریباً دو صدیوں سے ہندوستان پر حکمرانی کر چکی تھی اور سمجھتی تھی کہ وہ اسے اب بھی بخوبی جانتی ہے۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ ہندوستان متحد رہ سکتا ہے، اگر بہتر انتظامات اور کچھ مزید وقت فراہم کیا جائے۔ ان کے نزدیک کوئی بنیادی مسئلہ نہیں تھا، صرف بہتر نظم و نسق کی ضرورت تھی۔

جناح ہمیشہ کی طرح خاموشی سے سنتے رہے، بغیر کسی مداخلت کے۔ پھر انہوں نے مسئلے کی اصل کو واضح کر دیا۔ ان کے مطابق برطانوی ایک بنیادی حقیقت کو محض انتظامی مسئلہ سمجھ رہے تھے۔ ماؤنٹ بیٹن ایک منتقلی کو سنبھالنا چاہتے تھے، جبکہ جناح حقیقت کی تعریف متعین کرنا چاہتے تھے۔ جب یہ فرق واضح ہوا تو سمجھوتہ حل کے بجائے مسئلے سے بچنے کی کوشش محسوس ہونے لگا۔اس گفتگو کا المیہ دشمنی نہیں بلکہ غلط فہمی تھی۔ جیسا کہ مرزا غالب نے کہا: “یا رب! وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے میری بات…” یہ زبان کا نہیں بلکہ فہم کا مسئلہ تھا۔

جناح اپنی بات بیان کرنے میں ناکام نہیں تھے، بلکہ سامعین ایک مختلف فکری سطح پر موجود تھے۔جب ہم مارچ 1940 میں لاہور پہنچتے ہیں تو ہم کسی نئے خیال کی پیدائش نہیں بلکہ اس کے ناقابلِ نظر انداز ہونے کا لمحہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس موقع پر آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں برصغیر کے مختلف علاقوں سے رہنما شریک ہوئے۔اے کے فضل الحق نے قرارداد پیش کی، چوہدری خلیق الزمان نے اس کی تائید کی، جبکہ سکندر حیات خان اور لیاقت علی خان جیسے رہنما بھی اس اجتماع میں موجود تھے۔

پس پردہ سر محمد ظفر اللہ خان نے اس قرارداد کا مسودہ نہایت احتیاط سے تیار کیا۔یہ قرارداد بلند آہنگ نہیں تھی۔ اس میں “آزاد ریاستوں” کی بات کی گئی اور اس کی زبان جان بوجھ کر مبہم رکھی گئی تاکہ مختلف مفادات رکھنے والے رہنماؤں کے درمیان اتفاق برقرار رہے۔ یہ ایک ایسا متن تھا جو اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، نہ کہ فوری ٹکراؤ کے لیے۔لیکن اس قرارداد کو تاریخ بنانے والی چیز اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کی تشریح تھی۔

جب جناح خطاب کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے صرف قرارداد پیش نہیں کی بلکہ اس کا مفہوم بدل دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کا مسئلہ محض بین المذاہب نہیں بلکہ بین الاقوامی نوعیت کا ہے۔ اس ایک جملے نے پورا زاویہ بدل دیا۔ اب یہ ایک قوم کے اندر اختلاف نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان معاملہ بن چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ مسلمان محض ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک قوم ہیں۔

اس طرح ایک کمیونٹی کو تحفظ مانگنے والے گروہ سے ایک خودمختار قوم کے درجے پر لا کھڑا کیا گیا۔یہ تصور اچانک پیدا نہیں ہوا تھا۔ علامہ اقبال نے برسوں پہلے اس کی فکری بنیاد رکھی تھی: “فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں۔” اقبال نے ملت کو ایک اخلاقی اور تہذیبی اکائی کے طور پر بیان کیا، اور جناح نے اسے سیاسی زبان عطا کی۔جناح کی دلیل جذباتی نہیں بلکہ منطقی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں، سماجی روایات اور ادبیات کے حامل ہیں۔ یہ بات ساتھ رہنے کی نفی نہیں بلکہ زبردستی یکسانیت کے تصور کی مخالفت تھی۔انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ایسی دو قوموں کو ایک ریاست میں زبردستی جوڑنا عدم اطمینان اور بالآخر تباہی کا باعث بنے گا۔ ان کے نزدیک یہ مسئلہ جذباتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا تھا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کوئی بھی آئینی منصوبہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ آبادی اور شناخت کی حقیقتوں کو تسلیم نہ کرے۔لاہور کی اصل اہمیت اس کے الفاظ سے بڑھ کر اس کے اثرات میں ہے۔ اس نے لوگوں کے ذہن بدل دیے۔ اس سے پہلے مسلمان سیاست تحفظ اور نمائندگی تک محدود تھی، مگر اس کے بعد ایک نئی سوچ پیدا ہوئی: ہم کون ہیں؟ اور ہم اپنی شناخت کے لیے کیا قربانی دے سکتے ہیں؟یہ قربانی صرف تصوراتی نہیں تھی بلکہ حقیقی تھی—گھر، سکون، تعلق، اور آخرکار جانیں۔جناح کی اصل ذہانت الگ وطن کا مطالبہ کرنے میں نہیں بلکہ سوال بدلنے میں تھی۔ جب سوال بدل جاتا ہے تو تاریخ کا رخ بھی بدل جاتا ہے۔

آج بھی، خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم افراد کے لیے، یہی چیلنج موجود ہے: شناخت اور انضمام کے درمیان توازن۔ جناح کا پیغام یہ ہے کہ ساتھ رہنا اپنی پہچان کھونے کا نام نہیں، بلکہ واضح شناخت کے ساتھ معاشرے کا حصہ بننا ہے۔تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو جواب دیتے ہیں، مگر اصل میں وہ لوگ تاریخ کو بدلتے ہیں جو سوال ہی بدل دیتے ہیں۔ 1940 کے لاہور میں، جناح نے یہی کیا—اور جب سوال بدل گیا، تو جواب خود بخود سامنے آ گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے