اسلام آباد: پاکستان پہلی بار عالمی دہشتگردی اشاریہ 2026 میں سرِفہرست آگیا ہے، جہاں 2025 کے دوران دہشتگردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں چھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی تعداد 1,139 تک پہنچ گئی۔
یہ رپورٹ ادارہ برائے معاشیات و امن کی جانب سے جاری کی گئی، جس میں گزشتہ بیس سالوں کے دوران دنیا بھر میں دہشتگردی کے رجحانات اور واقعات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں 163 ممالک کو دہشتگردی کے اثرات کے لحاظ سے درجہ بندی دی گئی ہے، جن میں حملوں کی تعداد، ہلاکتیں، زخمیوں اور یرغمالیوں کے اعداد و شمار شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں بگاڑ کی بڑی وجہ ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں ہیں، جنہوں نے ملک کے لیے سنگین سیکیورٹی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی سے ہونے والی ہلاکتیں اب 2013 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ 2025 میں مجموعی طور پر 1,045 دہشتگرد حملے ریکارڈ کیے گئے۔
تحریک طالبان پاکستان کو ملک کی سب سے مہلک تنظیم قرار دیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر تیسری سب سے خطرناک دہشتگرد تنظیم بھی بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2009 کے بعد سے پاکستان میں ہونے والے 67 فیصد سے زائد حملوں کی ذمہ داری یہی تنظیم اٹھاتی ہے، جبکہ اس نے دوسری بڑی تنظیم کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ حملے کیے ہیں۔
چار مہلک ترین دہشتگرد تنظیموں میں سے — داعش، جماعت نصرت الاسلام والمسلمین، تحریک طالبان پاکستان، اور الشباب — صرف تحریک طالبان پاکستان ایسی تنظیم ہے جس کے حملوں میں گزشتہ سال اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں تحریک طالبان پاکستان کے حملوں کی تعداد میں 24 فیصد اضافہ ہوا، جہاں 595 حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 481 تھی۔ یہ تمام حملے پاکستان کے اندر ہوئے، جن کی اکثریت خیبر پختونخوا میں افغانستان کی سرحد کے قریب پیش آئی۔
2025 میں کم از کم 637 ہلاکتیں تحریک طالبان پاکستان سے منسوب کی گئیں، جو 2011 کے بعد سب سے زیادہ ہیں اور ملک میں دہشتگردی سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کا 56 فیصد بنتی ہیں۔ اسی دوران تنظیم کا سب سے بڑا حملہ فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والا تھا، جس میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اس صورتحال نے تحریک طالبان پاکستان کو اپنی کارروائیاں بڑھانے اور دائرہ کار کو وسیع کرنے کا موقع فراہم کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں شدت پسندی میں اضافہ ہوا۔
یہ مسلسل چھٹا سال ہے جب پاکستان میں دہشتگردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اگرچہ 2025 میں مجموعی حملوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم یرغمال بنائے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 2024 میں 101 سے بڑھ کر 2025 میں 655 ہو گئے۔
یہ رپورٹ پاکستان کی داخلی سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کو دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔