مشرق وسطیٰ کی 40 توانائی تنصیبات مکمل یا جزوی تباہ ہوچکی ہیں، عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ کا انکشاف

کینبرا: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عالمی توانائی نظام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جہاں کم از کم 40 اہم توانائی تنصیبات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

یہ انکشاف عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاطح بیرول نے آسٹریلیا کے دارالحکومت نے خطاب کے دوران کیا، جس نے دنیا بھر میں توانائی کے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق یہ تباہی صرف ایک یا دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے کم از کم 9 ممالک اس کے اثرات سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق متاثرہ تنصیبات میں آئل ریفائنریز، گیس پروسیسنگ یونٹس، پائپ لائنز اور بجلی پیدا کرنے والے بڑے پلانٹس شامل ہیں، جن کی تباہی نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔

ان توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ خاص طور پر خلیجی خطہ، جو دنیا کی توانائی سپلائی کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس بحران کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو دنیا کو ایک نئے توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو 1970 کی دہائی کے آئل شاک سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ اس بحران کے اثرات صرف ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، صنعتی پیداوار اور تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر ایک نئی قسم کی معاشی جنگ چھیڑ دی ہے، جس کا مقصد مخالفین کی معیشت کو کمزور کرنا ہے۔ اس تناظر میں توانائی تنصیبات کا تحفظ اب صرف اقتصادی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اور دفاعی اہمیت بھی اختیار کر چکا ہے۔

دوسری جانب کئی ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر متبادل توانائی ذرائع کی تلاش تیز کر دی ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کی جانب رجحان میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے