ٹرمپ کا ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

تہران/ واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر اندر اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر اور بغیر کسی خطرے کے کھول دے، بصورت دیگر امریکہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے ان کے مطالبے پر عمل نہ کیا تو امریکہ ایرانی پاور پلانٹس پر حملے کرے گا اور سب سے پہلے بڑے پلانٹس کو تباہ کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

امریکہ کے اندر بھی اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس رکن یاسمین انصاری نے اس مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مظاہرین کی حمایت کے دعووں سے لے کر ایک پوری قوم کے خلاف جنگی دھمکیوں تک کا سفر خطرناک ہے۔

اسی طرح کانگریس مین ڈان بیئر نے صدر کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بڑھتا ہوا غیر متوازن طرز عمل نہ صرف امریکی عوام بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال پر کھل کر بات کرنا ضروری ہے۔

ایران نے بھی اس دھمکی کا فوری اور سخت جواب دیا ہے۔ ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر دشمن نے ایران کے ایندھن یا توانائی کے نظام کو نشانہ بنایا تو خطے میں موجود امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تمام توانائی کے مراکز، آئی ٹی سسٹمز اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے