مشرقی سوڈان میں ٹیچنگ ہسپتال پر مہلک حملہ، درجنوں مریض و سٹاف ہلاک

دارفور: سوڈان کے مشرقی دارفور کے دارالحکومت الضعین میں واقع الضعین ٹیچنگ ہسپتال پر ہونے والے مہلک حملے نے ایک بار پھر ملک میں جاری انسانی بحران کی سنگینی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ حملہ جمعہ کی رات کیا گیا جس میں مریضوں اور طبی عملے سمیت متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا بیان میں بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں کئی مریض، دو خواتین نرسیں اور ایک مرد ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کم از کم 89 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں آٹھ طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔

حملے کے نتیجے میں ہسپتال کے بچوں کے وارڈ، زچگی یونٹ اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے اور شہر میں بنیادی طبی سہولیات معطل ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سوڈان میں جاری جنگ کے دوران صحت کے مراکز پر حملوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ادارے نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ تقریباً تین سال کے دوران 213 حملوں میں 2036 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

تاحال اس حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں، تاہم سوڈان میں جاری خانہ جنگی، جو اپریل 2023 میں فوج اور نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شروع ہوئی، مسلسل شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اس جنگ نے دنیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے، جہاں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 12 ملین سے زائد لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔

دونوں فریقین پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے خاص طور پر ریپڈ سپورٹ فورسز پر دارفور میں ایسے مظالم کے الزامات لگائے ہیں جو نسل کشی کی علامات رکھتے ہیں۔

ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے اپنے بیان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب بہت خون بہایا جا چکا ہے اور مزید انسانی المیے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ شہریوں، طبی عملے اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے