خطے کو جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ کس نے کیا؟ دبئی کی کاروباری شخصیات نے ٹرمپ پر سوال اٹھا دیئے

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ‏متحدہ عرب امارات کی کاروباری شخصیات ایکس پر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوالات کرنے کے گئیں۔

معروف کاروباری رہنما اور الحبتور گروپ کے سی ای او خلف احمد الحبتور نے کہا کہ خطے کو ایران کے ساتھ جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ کس نے کیا اور اس خطرناک اقدام کی بنیاد کیا تھی۔

خلف احمد الحبتور نے کہا کہ اس کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کو ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے عوام کو یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ آیا یہ فیصلہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کا تھا یا اس کے پیچھے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کا دباؤ بھی شامل تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ فوجی کشیدگی ان امن اقدامات کے برعکس ہے جو خطے میں استحکام کے نام پر شروع کیے گئے تھے۔

ان کے مطابق ان منصوبوں کے لیے زیادہ تر فنڈنگ خلیجی عرب ممالک نے فراہم کی تھی، جنہوں نے اربوں ڈالر امن اور ترقی کے لیے دیے تھے، اس لیے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہی وسائل خطے کو جنگ کے خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

خلف احمد الحبتور کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکہ کے اندر بھی اس کے سیاسی اور معاشی نتائج سامنے آئیں گے۔

اندازوں کے مطابق اس جنگ کی براہِ راست فوجی لاگت 40 سے 65 ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے جبکہ مجموعی معاشی اثرات شامل کیے جائیں تو یہ رقم 210 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس سے امریکی عوام میں بھی ایک نئی اور مہنگی جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے