واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت اب شدید کمزور ہو چکی ہے اور ملک کے پاس نہ تو بحریہ باقی ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی ریڈار سسٹمز۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی میزائل لانچرز بھی تیزی سے تباہ کیے جا رہے ہیں اور انہوں نے امریکی دفاعی کمپنیوں کو ہنگامی احکامات دے کر ہتھیار سازی میں اضافہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایرانی حکومت کے زندہ بچ جانے والے بعض رہنماؤں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں اور نئے ابھرنے والے افراد میں سے بہت سے لوگ سپریم لیڈر کا عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، جن میں سے کچھ بہت اچھے بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کے ساتھ کام کرنے کا موقع ابھی موجود ہے اور دیر نہیں ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب تک 49 سینئر ایرانی رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی نیوی، ایئر فورس اور ریڈار سسٹمز بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے آگے کیا کیونکہ ان کے خیال میں ایران پہلے حملہ کرنے والا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کے حوالے سے کہا کہ ایران اب ان ممالک پر بھی حملے کر رہا ہے جو پہلے غیر جانبدار تھے، اور اب یہ تمام ممالک ایران کے خلاف لڑائی میں شامل ہو گئے ہیں۔