اسلام آباد: آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف سرحدی پٹیوں میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت اور مبینہ دراندازی کے واقعات کے بعد جوابی آپریشن کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پاک فوج نے کم از کم 50 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر شدت پسند گروہوں کے ٹھکانے قائم تھے۔ کارروائیوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا اور 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب متعدد اہداف کو مؤثر انداز میں ہٹ کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر میں بھی آپریشن کیے گئے۔ سیکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان علاقوں کو سرحد پار سے دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جس کے باعث انہیں نشانہ بنایا گیا۔
کارروائیوں کے نتیجے میں مخالف عناصر کو جانی و مالی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ پاک فوج کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری کے تحفظ اور شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے آپریشن غضب للحق اپنے مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔