تہران: آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب طویل نہیں ہوگا اور آئینی تقاضوں کے مطابق اسے جلد مکمل کیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں کسی قسم کی ذاتی پسند، سیاسی وابستگی یا گروہی مفاد کو اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انتخاب کا پورا عمل شفاف، آئینی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت انجام پائے گا۔
مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن آیت اللہ علی معلمی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب مکمل طور پر غیر جانبدارانہ اور میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجلسِ خبرگان اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایسے رہنما کا انتخاب کرے گی جو انقلابِ اسلامی کے اصولوں، ملکی سلامتی اور عوامی مفاد کے تقاضوں پر پورا اترتا ہو۔
یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار مجلسِ خبرگانِ رہبری کے پاس ہوتا ہے، جو ملک بھر سے منتخب ہونے والے علماء پر مشتمل ادارہ ہے۔ موجودہ صورتحال میں تہران سمیت پورے ایران کی سیاسی و مذہبی قیادت کی نظریں اس اہم اور تاریخی عمل پر مرکوز ہیں، جس کے ذریعے ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کا تعین کیا جائے گا۔