سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ کے امکانات بڑھ گئے

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب پر خلیجی تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور دارالحکومت ریاض میں سکیورٹی اور فوجی مشاورت کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔

الجزیرہ اور مڈل ایسٹ آئی نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی تصادم کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک کی آئل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی قیادت نے علاقائی سلامتی کی صورتحال کا ہنگامی جائزہ لیا ہے اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر فوجی صف بندی کو تیز کیا جا رہا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور اس حوالے سے تہران حکومت کو واضح پیغام دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حالات مزید بگڑے تو پورا خلیجی خطہ نئی فوجی اور سیاسی صف بندیوں کی طرف جا سکتا ہے، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے