شہباز شریف نے خامنہ ای کی شہادت کو عالمی قانون کی پامالی قرار دیا

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز ایران کے سپریم لیڈرخامنہ ای کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور عالمی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خودمختار ریاست کے سربراہ کو ہدف بنانا عالمی روایات، سفارتی اصولوں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے، جس سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ایرانی حکومت نے اتوار کی علی الصبح تصدیق کی کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری سے شروع ہونے والے مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہوگئے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ سربراہانِ مملکت یا حکومت کو نشانہ نہ بنانے کی روایت صدیوں سے قائم ہے اور اس کی پاسداری عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ایرانی قوم سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحے کو ایران کے لیے ایک عظیم اور ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور عوامِ پاکستان اس غم کی گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم شہادتِ آیت اللہ سید علی خامنہ ای پر ایرانی قوم سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اللہ رب العزت ایرانی عوام کو صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا کرے تاکہ وہ اس بڑے سانحے کو برداشت کر سکیں۔

ادھر ایران میں حکومت نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کے بعد چالیس روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اس دوران سات روزہ سرکاری تعطیلات بھی ہوں گی اور ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رکھا جائے گا۔ مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات، دعائیہ تقریبات اور ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں، جہاں عوام بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

شہادت کے بعد عبوری دور میں ملک کے انتظامی امور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے سپرد کیے گئے ہیں، جو دو دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ حکومتی معاملات کی نگرانی کریں گے۔ سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق غلام حسین محسنی اژہ‌ای اور ایک اور سینئر قانونی عہدیدار اس عبوری سیٹ اپ کا حصہ ہوں گے۔ یہ اعلان آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر محمد مخبر کے حوالے سے کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ آئینی طریقہ کار کے تحت نئی قیادت کے حوالے سے مزید فیصلے جلد کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے