اسلام آباد: ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف وفد اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے اور آج کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں ٹیکنیکل ڈیٹا شیئرنگ ہوگی، جس میں ماہرین معاشیات اسٹیٹ بینک کی جانب سے معاشی کارکردگی، مانیٹری پالیسی، افراطِ زر اور بینکنگ ریگولیشنز پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دیں گے۔
ذرائع کے مطابق، اس دوران پالیسی ریٹ، اینٹی ٹیرر فنانسنگ اور اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات پر بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا تاکہ قرض پروگرام کے تحت شفافیت اور مالیاتی استحکام کے اہداف پورے کیے جا سکیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ای ایف ایف (Extended Fund Facility) کے تحت قرض پروگرام کا تیسرا اقتصادی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی چوتھی قسط ملنے کا امکان ہے۔ مزید برآں، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق RSF پروگرام کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر بھی پاکستان کو موصول ہو سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ہدف مقرر کیا ہے کہ 30 جون 2026 تک اسٹیٹ بینک کے خالص زرمبادلہ کے ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے یہ ذخائر 23 ارب 30 کروڑ ڈالر تک برقرار رہنے کی توقع ہ
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں پرائمری بیلنس 4,105 ارب روپے سرپلس رہا، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے منفی 0.6 فیصد کے تخمینہ کے مطابق ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں بجٹ سے پہلے اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے اور پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی رقوم موصول ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے بیشتر اہداف حاصل کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔