کراچی: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے تاکہ 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی چوتھی قسط کی ادائیگی کے معاملے پر جائزہ مذاکرات کیے جا سکیں۔ وفد نے کراچی میں اسٹیٹ بینک کے دورے کے دوران حکام سے ملاقات کی، جس میں ملک کی اقتصادی کارکردگی اور مالی پالیسیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے مرحلے میں تکنیکی ڈیٹا شیئرنگ سیشنز ہوں گے، جس میں جولائی 2025 تا جنوری 2026 کے دوران اقتصادی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس دوران اسٹیٹ بینک کے ماہرین زرمبادلہ ذخائر کی بہتری، مانیٹری پالیسی، افراط زر، بینکنگ ریگولیشنز اور دیگر اہم اقتصادی امور پر آئی ایم ایف کو بریف کریں گے۔
آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کو 30 جون تک 17.8 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، ماہرین آئی ایم ایف کو پالیسی ریٹ، اینٹی ٹیررفنانسنگ، اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات اور دیگر مالیاتی اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے دوران خالص زرمبادلہ ذخائر کو تقریباً 23 ارب 30 کروڑ ڈالر رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
ذرائع کے مطابق جولائی تا دسمبر کے دوران مالی سال کی پہلی ششماہی میں پرائمری بیلنس 4,105 ارب روپے کا سرپلس رہا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ جی ڈی پی کے منفی 0.6 فیصد کے تخمینہ کے مطابق رہا۔ آئی ایم ایف کے تکنیکی سیشنز میں اس عرصے کے دوران مختلف اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
آئی ایم ایف وفد 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان میں موجود رہے گا۔ اس دوران پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی (EFF) قرض پروگرام کے تحت تیسرا اقتصادی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے آر ایس ایف پروگرام کے تحت دوسرا اقتصادی جائزہ بھی مکمل کیا جائے گا، جس کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی رقم موصول ہونے کی توقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے زیادہ تر اہداف حاصل کر لیے ہیں اور نئے مالی سال کے بجٹ سے پہلے اسٹاف لیول معاہدے کی توقع ہے، جس کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی رقم ملنے کا امکان ہے۔