نیویارک: مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں خود کو نقل کرنے کی صلاحیت رکھنے والے مصنوعی ذہانت کے نظام انٹرنیٹ پر پھیل کر بڑے پیمانے پر سائبر سکیورٹی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
کمپنی کی اس تنبیہ پر ماہرین میں اختلاف سامنے آیا ہے، جہاں بعض نے خدشات کی تائید کی ہے جبکہ دوسروں نے خطرے کی شدت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
پیر کی شب جاری ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں انتھروپک نے وضاحت کی کہ بے قابو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز ممکنہ طور پر خودکار متاثرہ آلات کا ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل دے سکتے ہیں، انٹرنیٹ پر تیزی سے پھیل سکتے ہیں، انہیں بند کرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کر سکتے ہیں اور زیادہ کمپیوٹنگ طاقت حاصل کرنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز تک رسائی کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو آمودی کی گزشتہ ماہ جاری کردہ تنبیہ کے تسلسل میں سامنے آئی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت ایک سال یا اس سے بھی کم عرصے میں مستقل طور پر فعال رہنے والے خودکار نیٹ ورک کے ذریعے پورے انٹرنیٹ کو اپنے قابو میں لینے کی کوشش کر سکتی ہے۔
تاہم، اس خدشے پر تنقید کرنے والے ماہرین کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز کو انٹرنیٹ پر منتقل کرنا آسان نہیں ہوگا اور انہیں خودمختار طور پر چلانے کے لیے درکار کمپیوٹنگ وسائل حاصل کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ انتھروپک کی تازہ تحقیق میں ان رکاوٹوں پر قابو پانے کے ممکنہ طریقوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق تجربات سے ظاہر ہوا کہ 30 ارب یا اس سے کم پیرامیٹرز رکھنے والے درمیانے درجے کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز خود کو نقل کرنے کے عمل کے لیے درکار کئی انفرادی کام انجام دے سکتے ہیں، تاہم وہ پورے عمل کو قابلِ اعتماد انداز میں مکمل کرنے میں مشکلات کا شکار رہے۔
تحقیق میں یہ امکان بھی پیش کیا گیا کہ ایسے ماڈلز انٹرنیٹ سے منسلک کم قیمت آلات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرکے اپنے لیے درکار کمپیوٹنگ وسائل جمع کر سکتے ہیں۔ تجربات کے دوران ایک محدود اور سادہ آزمائشی نیٹ ورک میں نقل تیار کرنے کے عمل کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔
انتھروپک کے مطابق اس نوعیت کے خودکار نظام کو بند کرنا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ اسے روکنے کے لیے کوئی ایک مرکزی مقام موجود نہیں ہوگا۔
یہ تحقیق مصنوعی ذہانت سے وابستہ سائبر سکیورٹی خطرات پر جاری عالمی بحث میں ایک نئی پیش رفت ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ زیادہ ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت کے نظام سائبر حملوں کو خودکار بنا سکتے ہیں، انسانی نگرانی کے بغیر کام کر سکتے ہیں اور حفاظتی نظاموں کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار ترقی کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان اور محققین کی جانب سے ایسے نظاموں کے ممکنہ خطرات کے بارے میں انتباہات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جن میں بعض خدشات انتہائی سنگین اور انسانی وجود کے لیے خطرناک نتائج سے متعلق ہیں۔