پاکستان میں ٹرین حادثات میں خطرناک اضافہ، چار سال میں 164 بڑے حادثات، حفاظتی نظام اور احتساب پر سوالات

اسلام آباد (رضی طاہر سے) پاکستان میں ریلوے حادثات کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے حفاظتی انتظامات، تکنیکی نظام اور محکمانہ احتساب پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سال 2023 میں 35، 2024 میں 40 اور 2025 میں 49 بڑے ریلوے حادثات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2026 کے پہلے دس ماہ میں بھی تقریباً 40 حادثات پیش آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین مکمل برسوں میں بڑے ریلوے حادثات کی تعداد مسلسل بڑھی۔ 2023 میں 35 حادثات کے مقابلے میں 2024 میں 40 اور 2025 میں 49 حادثات رپورٹ ہوئے۔ رواں سال کے ابتدائی دس ماہ میں تقریباً 40 حادثات کی اطلاع بھی تشویش کا باعث ہے۔

13 اکتوبر 2026 کو رحمان بابا ایکسپریس ملتان کے قریب شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے علاقے میں پٹری سے اتر گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں پانچ افراد جاں بحق اور 49 زخمی ہوئے۔

واقعے کے بعد وفاقی حکومت کے انسپکٹر ریلوے کو تحقیقات کی ہدایت دی گئی، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تحقیقاتی عمل کی اہمیت ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوگئی۔

ٹرین حادثات کے اعداد و شمار کے ساتھ ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ گزشتہ برسوں میں ہونے والے حادثات کی تحقیقات سے کیا نتائج حاصل ہوئے؟ کتنی انکوائریاں مکمل ہوئیں، کتنی رپورٹس منظر عام پر آئیں، کن خامیوں کی نشاندہی کی گئی اور ذمہ دار قرار دیے جانے والے اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟

سینیٹ کی ویب سائٹ پر 2 اپریل 2026 کو ریلوے کے گزشتہ پانچ برس کے حادثات، تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق کمیٹی رپورٹ بھی درج ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ پارلیمانی سطح پر زیر غور رہا ہے، تاہم ان تحقیقات کے عملی نتائج اور سفارشات پر عمل درآمد کی تفصیلات عوام کے سامنے آنا ضروری ہیں۔

حادثات میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

یہ سوال اب اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اگر ہر بڑے حادثے کے بعد تحقیقات اور اصلاحات کی ہدایات جاری کی جاتی ہیں تو پھر حادثات کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ریلوے کی پٹریوں اور بوگیوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہے، سگنلنگ کا نظام مؤثر نہیں، تکنیکی خرابیوں کی بروقت نشاندہی نہیں ہو رہی یا حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد میں خامیاں موجود ہیں؟ ان سوالات کے جوابات شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات ہی فراہم کر سکتی ہیں۔

ریلوے حادثات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور وزارت ریلوے گزشتہ چار برس کے تمام بڑے حادثات کی تفصیلات، مکمل اور زیر التوا انکوائریوں کی تعداد، تحقیقاتی سفارشات اور محکمانہ یا قانونی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کریں۔

اس کے ساتھ پٹڑیوں، انجنوں، بوگیوں، سگنلنگ اور تکنیکی نگرانی کے نظام کے آڈٹ کے نتائج بھی عوام کے سامنے لائے جائیں۔

مسافروں کی جانوں کا تحفظ کسی بھی ریلوے نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں اور معاوضے کے اعلانات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ حادثات کی وجوہات دور کی جائیں، ذمہ داری کا تعین ہو اور ایسی اصلاحات کی جائیں جن سے مستقبل میں انسانی جانوں کا ضیاع روکا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے