وزیراعظم اور صدر کا خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق، گورنر راج بھی زیرغور

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبے میں گورنر راج کے ممکنہ آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر احد چیمہ نے وزیراعظم کی معاونت کی، جبکہ سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے صدر مملکت کی معاونت کی۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور ایمرجنسی کے معاملے پر اتفاق رائے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات متوقع ہے، جس میں گورنر راج کے معاملے پر مشاورت کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سمری صدر مملکت کو بھجوائے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس 11 اکتوبر کو صبح 9 بج کر 30 منٹ پر طلب کیے جانے کی اطلاع ہے، جس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال اور مختلف آئینی آپشنز پر غور متوقع ہے۔

اس سے قبل ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کو پیغام بھی پہنچا دیا گیا ہے۔

مجوزہ فہرست میں سابق فاٹا کے آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور زیریں وزیرستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت میں بھی ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز زیر غور ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بعض اہم اختیارات وفاق کے زیر استعمال لانے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلے کا باضابطہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے