اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو فراہم کی جانے والی فیول سبسڈی پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں حکومت کم آمدن اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے بروقت اقدامات کے باعث شہری فیول سبسڈی سے مستفید ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 15 ستمبر سے اب تک مختصر عرصے میں 75 لاکھ سے زائد شہریوں کا فیول ریلیف اسکیم سے مستفید ہونا باعث اطمینان ہے۔ انہوں نے اسکیم پر عملدرآمد میں حکومتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پوری حکومتی مشینری کے مؤثر، مربوط تعاون اور مشترکہ کاوشوں کی بہترین مثال ہے۔
شہباز شریف نے نائب وزیراعظم، وزیر آئی ٹی، وزیر اطلاعات، وزیر اقتصادی امور، وزیر خزانہ، اوگرا اور اسکیم سے منسلک تمام وفاقی و صوبائی حکام کی کاوشوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیول سبسڈی اسکیم کے ذریعے تیار ہونے والا مستحکم ڈیٹا بیس مستقبل میں بھی شہریوں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرول سبسڈی اسکیم کے تحت اب تک 84 لاکھ سے زائد افراد رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جبکہ 75 لاکھ سے زائد شہری اس سہولت سے مستفید ہو چکے ہیں۔ اسکیم کے آغاز سے اب تک جاری کیے گئے ایک کروڑ 22 لاکھ ٹوکنز میں سے ایک کروڑ 3 لاکھ ٹوکنز استعمال ہو چکے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 15 ستمبر سے شروع ہونے والی اسکیم تیسرے ہفتے میں داخل ہو رہی ہے۔ پہلی اور دوسری مرتبہ فیول سبسڈی حاصل کرنے والے شہری آئندہ ہفتے دوبارہ سبسڈی حاصل کر سکیں گے۔
ملک بھر کے 129 اضلاع میں فیول سبسڈی اسکیم پر عملدرآمد جاری ہے، جبکہ تمام پٹرول پمپس شہریوں کو اسکیم کے تحت سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ شہریوں اور پٹرول پمپس مالکان کی رہنمائی کے لیے 24 گھنٹے فعال کال سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے پبلک افیئرز یونٹ اور عوامی نمائندے شہریوں کی رجسٹریشن میں معاونت کر رہے ہیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔