اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بنائے گئے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کا باضابطہ فیصلہ کر لیا۔
غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت ہوگا جس میں پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف یا نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار ملک کی نمائندگی کریں گے، غزہ کی صورتحال، امن و استحکام سے متعلق اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور ہوگا۔
دوسری جانب، وزیر اعظم 13 سے 15 فروری کو جرمنی کا دورہ کریں گے۔ شہباز شریف میونخ سکیورٹی کانفرنس میں شریک ہوں گے جبکہ سائیڈ لائن پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور معاشی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف رواں ماہ ویانا آسٹریا کا بھی دورہ کریں گے، دورے کے دوران دونوں ممالک کے دوران تجارت معیشت پر گفتگو ہوگی۔
27 دسمبر 2025 کو سالانہ نیوز بریفنگ میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا تھا کہ غزہ میں انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا حصہ بنیں گے لیکن مزاحمتی تنظیم حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی کوشش میں شامل نہیں ہوں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ غزہ میں انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا معاملہ انتہائی نازک ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس پر سول ملٹری قیادت میں بہت کلیئرٹی ہے، فوج بھیجنے کے فیصلے سے متعلق کسی خبر کی تصدیق نہیں کر سکتا، 20 سے زائد ممالک تیار ہیں وہ بے شک حماس کو غیر مسلح کریں ہم ایسا کام نہیں کریں گے۔
24 جنوری 2026 کو لندن میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت ملی، کابینہ نے اس میں شامل ہونے کا اختیار دیا۔
وزیر اعظم شہباز نے کہا تھا کہ ان شاء اللہ غزہ میں جلد امن قائم ہوگا، فلسطینیوں کو عزت اور وقار کے ساتھ ان کے حقوق ملیں گے، ڈیووس کا دورہ بہت اچھا رہا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔