اینڈی برنہم لیبر پارٹی کے سربراہ منتخب ہونے کے بعد پیر کو برطانیہ کے 59ویں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔
اینڈی برنہم کے بکنگھم پیلس جانے کا امکان ہے، جہاں کنگ چارلس سوم سابق وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد انہیں حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔ کنگ سے ملاقات اور وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اینڈی برنہم باضابطہ طور پر عہدہ سنبھال لیں گے۔
سابق میئر گریٹر مانچسٹر کو لیبر پارٹی کی جانب سے بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی، جس کے بعد وہ ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکزی دھارے میں واپس آگئے ہیں۔
اینڈی برنہم سابق وزرائے اعظم ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کی حکومتوں میں صحت، ثقافت اور چیف سیکریٹری ٹو دی ٹریژری سمیت اہم کابینہ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
2010 اور 2015 میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے ناکام کوششوں کے بعد انہوں نے گریٹر مانچسٹر کے میئر کی حیثیت سے اپنا سیاسی کیریئر دوبارہ مضبوط کیا۔ اس دوران علاقائی سرمایہ کاری، پبلک ٹرانسپورٹ اصلاحات اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے ان کے کردار کو قومی سطح پر پذیرائی ملی۔
’’کنگ آف دی نارتھ‘‘ کے نام سے مشہور اینڈی برنہم نے کورونا وبا کے دوران گریٹر مانچسٹر کے دفاع اور مقامی کمیونٹیز کے لیے مزید مالی معاونت کے مطالبے کے باعث بھی خاصی شہرت حاصل کی۔
وزیراعظم بننے کے بعد اینڈی برنہم کی ترجیحات میں معاشی ترقی، نیشنل ہیلتھ سروس میں اصلاحات، عوامی خدمات میں بہتری اور علاقائی عدم مساوات کا خاتمہ شامل ہوں گے۔
اینڈی برنہم کو لیبر پارٹی کو متحد رکھنے اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔
اینڈی برنہم کی بطور وزیراعظم تقرری کو حالیہ برطانوی سیاسی تاریخ کی اہم ترین سیاسی واپسیوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے، جبکہ پیر کو ان کے باضابطہ طور پر عہدہ سنبھالنے کے ساتھ لیبر حکومت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔