نپاہ وائرس کیا ہے؟ یہ کیسے پھیلتا ہے اور کس طرح خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟

بھارت کے بعد نپاہ وائرس کے پھیلاو کا خدشہ بڑھ گیا ہے تاہم یہ وائرس کیا ہے، یہ کیسے پھیلتا ہے اور اسکی علامات کیا ہے؟ اور یہ کس طرح خطرناک ثابت ہو سکتی ہے؟

تفصیلات کے مطابق پاکستان سمیت خطے کے ممالک میں نپاہ وائرس کے حوالے سے احتیاطی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

بھارت کے ویسٹ بنگال میں تصدیق شدہ کیسز کے بعد تھائی لینڈ اور ملیشیا نے ایئرپورٹس پر مسافروں کی سخت جانچ شروع کر دی ہے جبکہ پاکستان نے بھی تمام داخلی راستوں پر سخت صحتی نگرانی کا حکم دے دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نپاہ وائرس کی شرح اموات 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے اور یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

نپاہ وائرس کیا ہے؟

نپاہ وائرس ایک نایاب مگر مہلک وائرس ہے، یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ انسانی رابطے یا آلودہ کھانے کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔

وائرس کا قدرتی میزبان فروٹ بیٹس ہیں، اور یہ دیگر جانوروں جیسے سور، کتوں، بلیوں، بکریوں اور گھوڑوں میں بھی انفیکشن پیدا کر سکتا ہے۔

علامات

عام طور پر اس وائرس میں انفیکشن سے علامات ظاہر ہونے کا وقت 4 سے 21 دن ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔

ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، جسمانی درد اور سانس کی مشکلات شامل ہیں۔

سب سے سنگین پیچیدگی دماغی سوزش (Encephalitis) ہے، جو انفیکشن کے 3 سے 21 دن بعد ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس بیماری میں موت کا خطرہ بہت زیادہ ہے تاہم صحتیاب ہونے والے اکثر مکمل صحتیابی پاتے ہیں، لیکن کچھ طویل مدتی نیورولوجیکل مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں

وائرس کہاں پایا گیا؟

انسانی انفیکشن کے کیسز زیادہ تر جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں دیکھے گئے ہیں، خاص طور پر دیہی یا نیم دیہی علاقوں میں۔

نپاہ وائرس پہلی بار ملیشیا میں 1999 میں شناخت ہوا، اس کے بعد سے اکثر چھوٹے چھوٹے پھیلاؤ کے واقعات بنگلہ دیش میں دیکھے گئے، جبکہ بھارت میں بھی کبھی کبھار پھیلاؤ ہوتا رہا ہے۔ CEPI کے مطابق اب تک تقریباً 750 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 415 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کس طرح پھیلتا ہے؟

ابتدائی طور پر نپاہ وائرس متاثرہ سوروں یا ان کے متاثرہ ٹشوز کے ذریعے پھیلا۔ تاہم بعد میں یہ زیادہ تر اپنے قدرتی میزبان فروٹ بیٹس سے انسانی رابطے یا بیج یا پھل کے رس کے ذریعے پھیلتا ہے، جیسے کچا کھجور یا کھجور کے رس جو بیٹس کے پیشاب یا تھوک سے آلودہ ہو۔

انسان سے انسان میں بھی وائرس قریبی رابطے سے منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور پر گھر کے افراد یا مریض کی دیکھ بھال کرنے والوں میں۔

کتنا فکر مند ہونا چاہیے؟

اگرچہ نپاہ وائرس مہلک ہے، لیکن ابھی تک یہ انسانوں میں آسانی سے منتقل ہونے یا عالمی سطح پر پھیلنے کی علامات نہیں دکھاتا۔

علاج اور ویکسین

ابھی نپاہ وائرس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں، کچھ تجرباتی علاج اور ویکسینیں ترقی کے مراحل میں ہیں، جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین بھی شامل ہے، جسے کووڈ-19 ویکسین کی ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا اور دسمبر میں بنگلہ دیش میں فیز II ٹیسٹنگ شروع ہوئی۔

بچاؤ کے اقدامات

متاثرہ جانوروں اور ان کے ماحول سے دور رہیں۔

کچا یا جزوی خمیر شدہ کھجور کا رس نہ پییں۔

پھل اچھی طرح دھو کر یا چھلکا اتار کر کھائیں۔

حفاظتی لباس اور دستانے استعمال کریں۔

ہاتھ دھوئیں اور صفائی کا خیال رکھیں۔

صحتی اداروں میں انفیکشن کنٹرول کے سخت اقدامات اپنائیں۔

اگر آپ کسی متاثرہ علاقے میں ہیں اور علامات ظاہر ہوں، فوری طور پر صحتی ماہر سے رجوع کریں۔ سفر کے بعد علامات ظاہر ہوں تو اپنے ڈاکٹر کو سفر کی تفصیلات کے ساتھ آگاہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے