نوری المالکی کی واپسی پر امریکا کی عراق سے حمایت ختم ہو سکتی ہے: ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو خبردار کیا ہے کہ اگر سابق وزیرِاعظم نوری المالکی ایک بار پھر اقتدار میں آئے تو امریکا بغداد کی مزید حمایت جاری نہیں رکھے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق کی شیعہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد، کوآرڈینیشن فریم ورک، نے نوری المالکی کی ممکنہ نامزدگی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ المالکی کے سابق دورِ حکومت میں عراق بدامنی اور غربت کا شکار رہا، اور ملک کو دوبارہ اسی راستے پر نہیں جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر المالکی دوبارہ برسراقتدار آئے تو امریکا اپنی مدد روک دے گا، اور امریکی حمایت کے بغیر عراق کے لیے ترقی اور استحکام ممکن نہیں ہوگا۔

واشنگٹن میں حکام نوری المالکی کو ایران کے قریب سمجھتے ہیں، جس پر طویل عرصے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ ٹرمپ کی یہ سخت وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے تعلقات کشیدہ ہیں اور عراق میں تہران کے اثر و رسوخ پر خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

نوری المالکی 2006 سے 2014 تک عراق کے وزیرِاعظم رہے اور صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے دو مکمل مدتیں گزاریں۔ تاہم ان پر اقتدار کو مرکزیت دینے، سنی اور کرد آبادی کو نظرانداز کرنے اور ایران نواز پالیسیوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ 2014 میں داعش کے پھیلاؤ کے بعد امریکا نے ان کی قیادت پر اعتماد کھو دیا تھا۔

ادھر امریکی وزیرِخارجہ مارکو روبیو نے بھی عراق میں ایران نواز حکومت کے خدشے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن سمجھتا ہے کہ ایران کے زیراثر حکومت عراق کے قومی مفادات کا مؤثر تحفظ نہیں کر سکتی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی کھلی مخالفت نوری المالکی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے، تاہم عراق کی سیاست میں غیر متوقع تبدیلیاں معمول کی بات سمجھی جاتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے