تہران: ایران نے مجوزہ امن معاہدے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے ایک اہم مطالبہ بھی سامنے رکھ دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر جنوبی لبنان سے اپنی تمام افواج کا انخلا کرے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا ہے کہ اسلام آباد اکارڈ پر دستخط آئندہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے جبکہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کا مکمل متن دستخطوں کے بعد عوام کے سامنے جاری کیا جائے گا۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق حتمی اور جامع معاہدے کے لیے آئندہ 60 دنوں کے دوران مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جن میں بالخصوص ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے معاملات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران صرف اسی صورت میں مزید مذاکرات کی میز پر بیٹھے گا جب اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے اور طے شدہ وعدوں پر عملی پیش رفت نظر آئے گی۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران دشمن پر اعتماد کر رہا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کی گئی تو ایران اپنے طور پر ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور ملکی دفاع کے لیے ہر وقت تیار رہیں گی۔
ادھر ایرانی قومی سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حتمی امن معاہدے کے لیے آئندہ مذاکرات کا آغاز اس وقت ہوگا جب امریکا اپنی ابتدائی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کرے گا۔
کونسل نے امن عمل میں ثالثی اور سفارتی کوششوں پر پاکستان اور قطر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔