خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف 800 ارب روپے خرچ ہوئے، مگر ترقی نظر نہیں آتی: وزیراعظم

اسلام آباد:
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف گزشتہ 15 برسوں میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم خیبرپختونخوا میں وہ ترقی دکھائی نہیں دیتی جو دیگر صوبوں میں نظر آتی ہے۔

قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں طور پر آگے بڑھیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹ اور منفی پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کے اذہان کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور بعض عناصر شہدا کی قربانیوں کی توہین تک کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔

خیبرپختونخوا کی قربانیاں ناقابلِ فراموش

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کو ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں۔ افغان جنگ کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کے نتیجے میں ملک میں کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی نے جنم لیا، جس میں ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد قومی اتفاقِ رائے سے فیصلہ ہوا کہ گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ہوگی۔ ایک لاکھ سے زائد جوانوں، افسروں اور شہریوں کی قربانیوں کے بعد دہشت گردی پر قابو پایا گیا، مگر 2018 کے بعد بعض غلط فیصلوں سے دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا گئی۔

وفاقی وسائل اور ترقیاتی اقدامات

شہباز شریف نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے اپنے حصے سے ایک فیصد خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دیا، جبکہ بلوچستان کو بھی اضافی وسائل فراہم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ:

  • بلوچستان کی شاہراہوں کے لیے 400 ارب روپے مختص کیے گئے
  • کسانوں کے لیے سولر ٹیوب ویلز منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے دیے
  • آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دانش اسکولز قائم کیے جا رہے ہیں

بھارت کو منہ توڑ جواب

وزیراعظم نے کہا کہ 6 مئی کو بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے بھرپور دفاع کیا اور دشمن کے 7 لڑاکا طیارے مار گرائے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو ایسا سبق سکھایا گیا جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔

افغانستان سے متعلق موقف

افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ افغان عبوری حکومت سے دوحا اور چین میں بات چیت کی گئی، مگر پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ افغان سرزمین سے دہشت گردی جاری رہی، جس پر پاکستان کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔ اب فیصلہ افغان حکومت کو کرنا ہے کہ وہ پرامن ہمسایہ بننا چاہتی ہے یا نہیں۔

وفاق اور خیبرپختونخوا تعلقات

خیبرپختونخوا حکومت سے تعلقات پر وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان سرد جنگ کا تاثر درست نہیں، تاہم جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے