تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی جانب سے ایک سخت اور غیر معمولی انتباہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر خطے میں ایرانی اہداف پر حملے جاری رہے تو اس کے ردعمل میں خلیج میں موجود بعض تیل اور فوجی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔
ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے خطے میں اپنے فوجی اڈوں کے ممکنہ نقصان کے خدشے کے پیش نظر ایران کے بعض حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، جن میں ایرانی جزائر بھی شامل ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں جزیرہ ابو موسیٰ اور جزیرہ خارگ کے کچھ حصوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو ایران کی توانائی اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ایرانی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ اگر ایسی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران اپنے دفاع اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
بیان میں متحدہ عرب امارات کی قیادت کو بھی براہِ راست خبردار کیا گیا ہے کہ ایران اپنی سرزمین اور اقتدارِ اعلیٰ کے دفاع کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنا بنیادی حق سمجھتا ہے، اور اگر ایران کے خلاف حملوں میں کسی علاقائی ملک کی سرزمین استعمال ہوئی تو اس کے نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
ایرانی بیان میں کہا گیا کہ امارات کے شہروں میں موجود بندرگاہیں، فوجی اڈے اور وہ مقامات جہاں امریکی میزائل یا عسکری نظام تعینات ہیں، ممکنہ طور پر نشانہ بن سکتے ہیں اگر ایران کے خلاف جارحیت جاری رہی۔
ایرانی حکام نے امارات کے عوام اور مقامی آبادی سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے اپنے شہروں میں موجود بندرگاہوں، جہازوں کے لنگر انداز ہونے والے ٹرمینلز اور ان مقامات سے دور رہیں جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔
ادھر ایران کے سینئر فوجی اور سیاسی رہنما میجر جنرل محسن رضائی نے بھی اس کشیدہ صورتحال پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کا خاتمہ ایران کے ہاتھ میں ہے۔
ان کے مطابق ایران کسی بھی جنگ کو طول دینے کے حق میں نہیں، لیکن اگر ایران پر حملے جاری رہے تو تہران اپنی شرائط کے مطابق ہی اس تنازع کا خاتمہ دیکھنا چاہے گا۔میجر جنرل محسن رضائی نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے چند بنیادی شرائط ہیں۔
ان کے مطابق سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ امریکا ایران کو ہونے والے تمام نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی اور حملوں کے نتیجے میں ایران کو جو مالی اور عسکری نقصان پہنچا ہے اس کی مکمل تلافی امریکا کو کرنا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے حوالے سے بھی ایران کو واضح اور سو فیصد ضمانت درکار ہے کہ خطے میں دوبارہ اس طرح کی جارحیت نہیں ہوگی۔
ان کے مطابق اس ضمانت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ امریکا خلیجِ فارس سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرے اور خطے سے اپنے فوجی اڈے اور بحری قوت کو واپس لے جائے۔
واضح رہے کہ ایران کی یہ تازہ وارننگ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی میں اضافہ ہوا تو خلیجِ فارس کے توانائی مراکز اور بحری راستے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
خلیجِ فارس دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم خطہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔