دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر کے سابق وزیرِاعظم اور ممتاز سیاستدان حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے کہا ہے کہ خطے میں جاری جنگ ایک دن ضرور ختم ہو جائے گی، مگر اس سے خلیجی ممالک کو کئی اہم اسباق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو باہمی اتحاد، مشترکہ موقف اور مضبوط تعاون کو فروغ دینا ہوگا تاکہ مستقبل میں درپیش سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خلیجی ممالک ایک حقیقی اور مؤثر فوجی و سکیورٹی اتحاد قائم کریں جو عملی طور پر زمین پر موجود ہو، جیسا کہ مغربی ممالک کا فوجی اتحاد شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ اتحاد میں سعودی عرب کو اپنے حجم اور اثر و رسوخ کے باعث مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔
حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے کہا کہ اس معاملے کی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ خلیجی ممالک ابھی سے اس منصوبے پر سنجیدہ غور و فکر اور منصوبہ بندی شروع کریں اور جنگ کے خاتمے کا انتظار نہ کریں۔
ان کے مطابق خلیجی ممالک کو اپنے باہمی اختلافات ختم کر کے خلیج تعاون کونسل کو مزید مضبوط اور متحد بنانا ہوگا تاکہ رکن ممالک کے مشترکہ مفادات، خودمختاری اور سلامتی کا مؤثر تحفظ کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی ممالک کو فوری طور پر جدید فوجی اور الیکٹرانک دفاعی صنعتوں کے قیام اور ترقی پر کام شروع کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے عوام کو کسی بھی ممکنہ جارحیت سے محفوظ رکھ سکیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے سخت پابندیوں کے باوجود اپنی میزائل صنعت کو ترقی دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ خطے میں ایک طاقتور عسکری صلاحیت رکھتا ہے۔
قطری رہنما کا کہنا تھا کہ چونکہ خلیجی ممالک نے اس جنگ کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی وہ اس کے خواہاں تھے بلکہ وہ تو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے تھے، اس لیے اس جنگ کے سیاسی اور اقتصادی نتائج کا بوجھ بھی ان پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کی اصل ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اسی نے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا اور جنگ کی چنگاری کو ہوا دی۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک صف میں کھڑے ہوں، چاہے معاملہ اسرائیل سے متعلق ہو یا ایران سے۔ ان کے مطابق ایران خطے کا مستقل ہمسایہ ہے اور خلیجی ممالک کو اس کے ساتھ اپنے اختلافات کے باوجود ایک واضح اور متوازن حکمت عملی کے تحت تعلقات کو منظم کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں پیدا ہونے والی کشیدگی سے خطے کو بچایا جا سکے۔
حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک مضبوط علاقائی اتحاد قائم کریں جو نہ صرف داخلی طور پر مضبوط ہو بلکہ اس کے قریبی تعلقات ترکی اور پاکستان جیسے اہم ممالک کے ساتھ بھی ہوں، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی ممالک کی اصل طاقت ان کے اپنے عوام اور ان کے بیٹوں کی صلاحیتوں میں مضمر ہے۔