واشنگٹن: امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے جواز پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے” جیسے بیانات ماضی کی متنازعہ پالیسیوں کی یاد دلاتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ یہی صدر اس سے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی تھیں، تو پھر اب اسی خطرے کو بنیاد بنا کر نئی جنگ کی بات کیوں کی جا رہی ہے۔
برنی سینڈرز نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی عوام کو ایک بار پھر خوف اور غیر مصدقہ دعوؤں کی بنیاد پر جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی قومی سلامتی کے نام پر ایسے بیانیے تشکیل دیے گئے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا اور بعد ازاں وہ غلط ثابت ہوئے۔ انہوں نے خاص طور پر ویتنام میں لڑی جانے والی جنگ اور عراق پر حملے کا حوالہ دیا، جہاں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے دعوے بعد میں بے بنیاد نکلے۔
سینیٹر سینڈرز نے کہا کہ ویتنام جنگ کے دوران حکومت کی جانب سے عوام کو مکمل سچ نہیں بتایا گیا، جبکہ عراق جنگ میں بھی بڑے پیمانے پر جھوٹ اور غلط بیانی کا سہارا لیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا تو امریکہ ایک اور طویل اور مہنگی جنگ میں الجھ سکتا ہے، جس کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔