لاہور: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور کشیدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں، جس کے پیش نظر حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنا اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ یقینی بنانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا۔ مختلف شہروں میں مظاہرین نے ریلیاں نکالیں، جس کے دوران بعض مقامات پر پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت جلسے، جلوس، ریلیوں اور پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد ہوگی۔
لاہور میں واقع امریکی قونصل خانہ لاہور کے باہر احتجاج کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ قونصل خانے کے اطراف کنٹینرز کھڑے کر کے اور خاردار تاریں لگا کر تمام راستوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
حکام کے مطابق گزشتہ روز کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات میں 9 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور کسی بھی افواہ پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔