راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ آپریشن غضب للحق پاکستان کے خودمختار حقوق اور سیکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا ہے اور یہ کارروائی اپنے تمام اہداف کے حصول تک جاری رہے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان حکومت نے دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت یہ عہد کیا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ افغان علاقے سے ہونے والے دہشت گردی کے مسلسل واقعات نے پاکستان کو اپنے دفاع میں اقدام کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے گزشتہ شب کی جانے والی فوجی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ آپریشن مکمل طور پر پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ اور شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن غضب للحق وزیرِ اعظم کی ہدایات پر جاری ہے اور اس کے مقررہ مقاصد کے حصول تک جاری رکھا جائے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اس امر پر مکمل اتفاقِ رائے موجود ہے کہ دہشت گردی کو ملک میں کسی صورت جگہ نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 میں دہشت گردی کی لہر کے بعد تشکیل دیا گیا نیشنل ایکشن پلان آج بھی انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کی بنیاد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو ’’عزمِ استحکام‘‘ کے وسیع وژن کے تحت آگے بڑھا رہی ہے، جس کا مقصد شدت پسند عناصر کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں کو مستحکم کرنا اور ملک میں طویل المدتی استحکام یقینی بنانا ہے۔
ایک سخت بیان میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان حکومت اور دہشت گرد گروہوں میں کوئی فرق نہیں، اور انہوں نے اسے ایک ’’ماسٹر پراکسی‘‘ قرار دیا جو مختلف پراکسی عناصر کو چلا رہی اور انہیں تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پاکستان میں ہونے والے ہر دہشت گردی کے واقعے میں بھارت ملوث ہے۔
فوج کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سرحدوں، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھیں گی اور قومی سلامتی کو درپیش ہر خطرے کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔