پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں پوری قوم اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا دفاع ہر پاکستانی کی قومی ذمہ داری ہے اور داخلی سیاسی اختلافات کے باوجود بیرونی خطرات کے سامنے قومی اتحاد ضروری ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ اندرونی پالیسیوں پر تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم بیرونی سازشوں یا جارحیت کی صورت میں تمام پاکستانی قوم اور سکیورٹی فورسز کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پائیدار امن کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، افغان حکومت اور افغانستان کے عوام شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تین فریقوں کی شمولیت کے بغیر دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی آپریشن دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث امن کی صورتحال میں بہتری آئی تھی، تاہم بعد میں سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان سے صورتحال متاثر ہوئی۔
انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے بجائے سفارتی اور سیاسی راستہ اپنانا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے تجویز دی کہ قومی سطح پر ایک جرگہ یا مشاورتی فورم تشکیل دیا جائے جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندے، قبائلی عمائدین اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسی جامع مشاورت سے خطے میں پائیدار امن کے لیے بہتر حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہونی چاہیے کیونکہ جنگ مسائل کو کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پرامن تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات، باہمی احترام اور سیاسی حکمت عملی ہی خطے میں استحکام لا سکتی ہے۔