امریکہ نے تمام عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کر دیا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا میں درآمد ہونے والی تمام اشیا پر فوری طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیصلہ ابتدائی طور پر 150 دن کے لیے نافذ العمل ہوگا۔ اس عرصے کے دوران امریکا آنے والی بیشتر درآمدی مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی وصول کی جائے گی، تاہم کچھ مخصوص اشیا کو اس عارضی ٹیرف سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

حکومتی بیان کے مطابق جن اشیا کو اس نئی ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے ان میں معدنیات، کھاد، مختلف دھاتیں اور توانائی سے متعلق آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والا خام مال بھی اس ٹیرف کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوگا۔ مزید برآں، یہ نئی ڈیوٹی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے (USMCA) پر لاگو نہیں ہوگی، جس کے تحت ان ممالک کے درمیان تجارت پہلے سے طے شدہ شرائط کے مطابق جاری رہے گی۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے دیگر ممالک پر عائد کیے گئے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ جن قانونی اختیارات کے تحت یہ اضافی ٹیرف لگائے گئے، وہ دراصل قومی ایمرجنسی کی صورت حال کے لیے مخصوص ہیں، اور اس قانون کے تحت صدر کو اس نوعیت کے وسیع پیمانے پر اضافی تجارتی محصولات عائد کرنے کی اجازت حاصل نہیں۔

عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اسے مایوس کن قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے بعض ججوں کے فیصلے پر انہیں شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اس فیصلے پر دنیا خوشی کا اظہار کرے گی، لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوگی۔ صدر کے مطابق ٹیرف پالیسی کے ذریعے امریکا کو حاصل ہونے والی آمدن میں مزید اضافہ کیا جائے گا اور ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد ہی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کریں گے، اور اب اس اعلان کو عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک اور تجارتی حلقوں کی جانب سے اس پر ردعمل کا سلسلہ متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے