واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے رابطہ کیا ہے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں ملاقات بھی ہو۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے ایک دن قبل امریکا سے رابطہ کیا اور جوہری معاہدے پر مذاکرات کی پیشکش کی، جس پر امریکا غور کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ملاقات سے پہلے امریکا کو ضروری کارروائی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز زیر غور ہیں، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، امریکا ایرانی اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بھی بات کرے گا، کیونکہ ان کی کمپنی اس شعبے میں مہارت رکھتی ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کا وقت خاص طور پر حساس ہے کیونکہ ایران میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں، ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور امریکی انتظامیہ تہران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر بھی غور کر رہی ہے۔