اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے ملک گیر دھرنے جاری، 9 مقامات پر قومی شاہراہوں کو بند کردیا گیا۔ عمران خان کو فوری طور پر الشفاء ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث اہم شاہراہیں، موٹرویز اور شہری مراکز بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
مختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش سے معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ مسافروں اور ٹرانسپورٹ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھکر تا ڈیرہ اسماعیل خان روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے جبکہ صوابی انٹرچینج سے موٹروے کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ قراقرم ہائی وے پر بھی آمدورفت معطل ہے، اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان تا اسلام آباد موٹروے، کوہاٹ جنڈ روڈ، چمن کوئٹہ شاہراہ اور جی ٹی روڈ اٹک پل پر بھی دھرنوں کے باعث ٹریفک کی روانی بند ہے، جس سے بین الصوبائی آمدورفت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے جہاں پارلیمنٹ، پارلیمنٹ لاجز کے اندر خیبرپختونخواہ ہاؤس کے باہر دھرنے جاری ہیں۔ اس کے علاوہ سیونتھ ایونیو اور ریڈ زون کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث سرکاری دفاتر اور سفارتی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں لاہور کچہری کے باہر بھی احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
خیبرپختونخواہ کے مختلف اضلاع میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، صوابی اور کوہاٹ سمیت اہم راستوں کی بندش کے باعث تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
شمالی علاقوں کو ملانے والی قراقرم ہائی وے کی بندش سے مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔
بلوچستان میں چمن تا کوئٹہ شاہراہ کی بندش سے صوبے کے اندر آنے جانے والی ٹریفک معطل ہے۔
پنجاب میں اٹک کے مقام پر جی ٹی روڈ پل کی بندش سے راولپنڈی، پشاور اور گردونواح کے علاقوں میں سفر شدید متاثر ہوا ہے۔
دھرنوں میں شریک مظاہرین کا مرکزی مطالبہ سابق وزیراعظم عمران خان کو فوری طور پر الشفا ہسپتال منتقل کرنا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں اور انہیں فوری اور بہتر طبی سہولیات کی ضرورت ہے۔
مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا، دھرنے جاری رہیں گے۔