پاک بحریہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا جبکہ شمالی بحیرۂ عرب میں ایک جامع بحری مشق کے ذریعے اپنی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ مشق بدلتی ہوئی بحری جنگی حکمتِ عملی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منعقد کی گئی، جس میں روایتی اور بغیر پائلٹ نظاموں کی صلاحیتوں کو کامیابی سے آزمایا گیا۔
مشق کے دوران پاکستان نیوی نے جدید فضائی دفاعی نظام کی عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمودی لانچنگ سسٹم سے ایل وائی–80 (این) زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب لائیو فائر کیا۔ توسیع شدہ فاصلے پر فائر کیا گیا میزائل اپنے فضائی ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کرنے میں کامیاب رہا، جس سے پاکستان نیوی کے جدید اور طویل فاصلے تک مؤثر فضائی دفاعی نظام کی تصدیق ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس بحری مشق کے دوران جدید لوئٹرنگ میونیشن کے ذریعے سطحِ آب کے اہداف کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ لوئٹرنگ میونیشن نے اعلیٰ درستگی کے ساتھ اہداف کو تباہ کر کے پاکستان نیوی کی پریسیژن اسٹرائیک صلاحیتوں کا واضح ثبوت فراہم کیا، جو جدید بحری جنگ میں ایک اہم عنصر تصور کی جاتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مشق کے دوران بغیر پائلٹ سطحی بحری جہاز، ان مینڈ سرفیس ویسل، کے کھلے سمندر میں کامیاب آزمائشی تجربات بھی کیے گئے۔ ان تجربات کو خودکار بحری ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جن کے دوران پلیٹ فارم کی تیز رفتار کارکردگی، غیر معمولی پھرتی، درست نیویگیشن اور سخت موسمی حالات میں مؤثر صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یو ایس وی کو کم خطرے اور زیادہ اثر رکھنے والا اسٹیلتھ ٹیکٹیکل انٹرسیپٹر قرار دیا گیا ہے۔ اس جامع بحری مشق کا مشاہدہ کمانڈر پاکستان فلیٹ نے کیا، جس میں پاکستان نیوی کی جدید نظاموں کے مؤثر اور ہمہ گیر استعمال کی بھرپور صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، نشانِ امتیاز (ملٹری)، نے مشق میں شریک افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور عملی قابلیت کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان نیوی ہر صورت میں پاکستان کے بحری دفاع اور قومی سمندری مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتی رہے گی۔