تہران: ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایک غلط اندازہ اسرائیلی علاقوں کو ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ناقابلِ رہائش بنا سکتا ہے۔
بیان میں اسرائیل کے اہم بنیادی ڈھانچے سے متعلق متعدد تنصیبات کے نام درج کیے گئے ہیں، جن میں پانی صاف کرنے کے بڑے کارخانے، بجلی گھر، تیل صاف کرنے کی تنصیبات، ایندھن کے ذخائر اور اہم پل و شاہراہیں شامل ہیں۔
فہرست میں حدیرہ، سوریک، اشدود اور اشکلون کے پانی صاف کرنے والے کارخانوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو اسرائیل کی پانی کی فراہمی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ حیفہ کی تیل صاف کرنے کی تنصیبات، اوروت رابن بجلی گھر، اشدود کا اشکول بجلی گھر اور ایلات سے اشکلون تک تیل کی ترسیل کی پائپ لائن کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔
بیان میں حیفہ کی کارمل سرنگوں، تل ابیب کے اہم شاہراہی رابطوں، یروشلم کے پلوں اور دیگر مواصلاتی گزرگاہوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ فہرست میں صحرائے نیگیو میں واقع دیمونا جوہری تحقیق کے مرکز کا نام بھی شامل ہے۔
اس بیان میں بنیادی طور پر اسرائیل کے پانی، بجلی، توانائی اور نقل و حمل کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ممکنہ سنگین نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔