بغداد: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو پیش کی گئی ایران کی سات روزہ تجویز اب بھی برقرار ہے۔ امریکی شرائط تسلیم کیے جانے کی صورت میں آبنائے ہرمز چھٹے روز کھول دی جائے گی، جبکہ ساتویں روز مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔
بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے 52ویں اجلاس کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کو تنازعات کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔
یمن سے متعلق اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس معاملے پر سنجیدہ بات چیت ہوئی، جس میں سعودی عرب سمیت مختلف ممالک نے اپنے مؤقف پیش کیے۔ ایران نے یمن سے متعلق قرارداد میں منصفانہ اور متوازن مؤقف اپنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی غیر متوازن قرارداد کی توثیق نہیں کر سکے گا۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی صورت دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے بھی ملاقات کی، جس میں سعودی عرب اور یمن تنازع سمیت خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں یمن کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ اسرائیل کا قبضہ اور اس کی توسیع پسندانہ پالیسیاں ہیں۔