نائن الیون میں افغان یا پشتون ملوث نہیں تھے، ہم کرائے کی جنگ لڑتے رہے، خواجہ آصف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نائن الیون کے واقعے میں ملوث عناصر کا آج تک تعین نہیں ہو سکا اور اس سانحے میں نہ کوئی افغان، پشتون یا ہزارہ ملوث تھا، اس کے باوجود پاکستان نے اس واقعے کے بعد ایک طویل عرصے تک کرائے کی جنگ لڑی اور بالآخر استعمال ہو کر تنہا چھوڑ دیا گیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی باتوں سے انہیں زیادہ اختلاف نہیں۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اور اجازت نامے پر لوگ آتے جاتے تھے، وہ خود بھی بغیر ویزہ افغانستان گئے تھے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی سرزمین پر لڑی جانے والی دو بڑی جنگوں کا فریق بنا۔ انہوں نے واضح کیا کہ روسی افواج افغان حکومت کی دعوت پر وہاں آئی تھیں اور اس کے خلاف کوئی جہاد نہیں تھا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج تک ہم اپنا نصاب درست نہیں کر سکے اور اپنی تاریخ کو مسخ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے ہمیں بعد میں چھوڑ دیا، مگر ہم نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون افغانستان نے نہیں کرایا، مگر اس کے بعد پاکستان کو امریکا کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بنایا گیا اور ایک فرد نے امریکی خوشنودی کے لیے ملک کو ایسی جنگ میں جھونک دیا جو ہماری نہیں تھی۔

وفاقی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ نائن الیون کے اصل ذمہ دار آج تک سامنے نہیں آ سکے، اس کے باوجود پاکستان دو دہائیوں تک کرائے کی جنگ کا حصہ بنا رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان نے جہاد نہیں لڑا کیونکہ یہ ایک سپر پاور کی جنگ تھی، جس کے نتیجے میں پاکستان کو استعمال کر کے نظر انداز کر دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اسی ایوان میں اپنے والد کے فیصلوں پر معافی مانگ چکے ہیں اور کہا کہ اعجاز الحق نے ان کے بارے میں ایوان میں کیا کہا، انہیں علم نہیں۔

وزیر دفاع نے قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد نے اتحاد، تنظیم اور ایمان کا درس دیا تھا، مگر ہم نے اسے الٹ کر ایمان، اتحاد اور تنظیم بنا دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہم نے غیر ملکی حملہ آوروں کے ناموں پر سڑکیں رکھ دیں اور سوال اٹھایا کہ ہم اپنے حقیقی ہیروز کو ہیرو کیوں تسلیم نہیں کرتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے