ایران پر امریکی حملے جاری، حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سے 55 افراد شہید،سیکڑوں زخمی

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے مسلسل 13ویں رات ایران پر حملے کیے ہیں۔

سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی فوج کے کمانڈ مراکز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کی تنصیبات اور ایرانی بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایران سے لاحق خطرے کو مزید کم کرنا ہے۔

سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی حالیہ کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ تجارتی جہاز بدستور آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزر رہے ہیں۔

جمعہ کی صبح ایران کے جن علاقوں سے دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان میں بندر عباس، اہواز، امیدیہ، جاسک، قشم، اندیمشک، خرم آباد، خنداب، بروجرد، فیروزآباد، تفت اور نائین شامل ہیں۔

امریکی فوج کی جانب سے ایران کے مختلف حصوں پر مسلسل 13ویں رات حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام کی جانب سے امریکی فضائی حملوں کے اختتام کے اعلان کے کچھ دیر بعد جنوبی ایرانی شہر اہواز کے حکام نے بتایا کہ ان حملوں میں چار افراد ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ایران کی وزارتِ صحت کے اطلاعاتی مرکز کے سربراہ حسین کرمان پور نے جمعرات کو بتایا تھا کہ امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سے 55 افراد ہلاک جبکہ 629 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے