ممکنہ جنگ کے سائے، ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے لیے انقرہ روانہ

انقرہ: امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر ایران نے سفارتی محاذ پر سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے لیے ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچ رہے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ترکی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور ایرانی قیادت کو جوہری پروگرام سے متعلق محدود رعایتوں پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ویڈیو کانفرنس کی تجویز بھی دی ہے، تاہم ایک دہائی سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن اور تہران کی جانب سے بیانات سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے کارروائی کا حکم دیا تو امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس معاہدے کے لیے وقت محدود ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے مذاکرات کو ترجیح دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد ایران نے ایک ہزار نئے زمینی اور بحری ڈرونز تیار کیے ہیں جبکہ بیلسٹک میزائل صلاحیت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک ایک طرف ممکنہ تصادم کے لیے تیار ہے تو دوسری جانب سفارتی راستے بھی اختیار کیے جا رہے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ حاکان فدان نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے کے خطے کے لیے سنگین نتائج ہوں گے اور مسئلے کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔ خلیجی ممالک نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود یا زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے