اسلام آباد: پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں خطے کی بدلتی صورتحال، امن و استحکام اور مسلسل مکالمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور ترقی کے لیے سفارت کاری کو واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطح روابط جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ادھر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے رابطہ کیا اور کشیدہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی مسائل کا حل ہے۔
پاکستان امریکا کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے اور سمجھتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ حکومت نے ورلڈ اکنامک فورم سمیت مختلف عالمی فورمز پر بھی اس معاملے کو اجاگر کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے خلاف ہے اور مشرق وسطیٰ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس سے علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کو شدید نقصان پہنچے گا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان امریکی صدر کے بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے تحت شامل ہوا ہے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط بنایا جا سکے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کو فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان کسی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، اور بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون پلیٹ فارم ہے۔