ایران امریکہ مذاکرات، ایرانی وفد کا امریکہ پر شدید عدم اعتماد

اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران اس بار فضا میں اعتماد کی شدید کمی واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ایران ان مذاکرات میں مکمل عدم اعتماد کے ماحول کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، کیونکہ واشنگٹن ماضی میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور سفارت کاری کے اصولوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

عراقچی کے مطابق ایران کو اس بات کا تلخ تجربہ ہے کہ گزشتہ دو مواقع پر جب مذاکرات جاری تھے، اسی دوران امریکہ نے ایران پر حملے کیے، جس نے اعتماد کی بنیاد کو مکمل طور پر ہلا کر رکھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں کسی بھی مثبت پیش رفت کی توقع رکھنا حقیقت پسندی کے خلاف ہوگا، اسی لیے ایران اس بار انتہائی کم توقعات کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہو رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اس نازک صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات میں شامل تو ہو رہا ہے، لیکن اس کی حکمت عملی محتاط اور حقیقت پسندانہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے لیے تیار نہیں اور ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے گا۔

امریکی موقف بھی اس معاملے میں سامنے آیا ہے، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے واضح رہنما اصول فراہم کیے ہیں۔

وینس کے مطابق اگر ایران سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو امریکہ بھی مصالحت کے لیے اپنا ہاتھ بڑھانے کو تیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے