واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کو پاکستان کی جانب سے ایکس پر جنگ بندی سے متعلق پوسٹ کے بارے میں اس کے شائع ہونے سے پہلے ہی علم تھا۔
پاکستان کے وزیرِاعظم نے صدر ٹرمپ سے ایران کے لیے منگل کی شام مقرر کردہ ڈیڈ لائن میں توسیع کی عوامی اپیل ایکس پر کی، اور وائٹ ہاؤس اس پیغام کی تشکیل میں براہِ راست شامل تھا۔
صدر ٹرمپ کی ایران کے لیے رات 8 بجے کی ڈیڈ لائن تیزی سے قریب آ رہی تھی، اور پاکستان دونوں فریقوں کے لیے کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اسی لیے وزیرِاعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔منگل کی دوپہر ایکس پر اپنی پوسٹ میں، شہباز شریف نے ٹرمپ کے اندازِ بیان کو اپناتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری مستقل، مضبوط اور طاقتور طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے اور انہوں نے صدر ٹرمپ سے درخواست کی کہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔
بعد ازاں انہوں نے صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ مشیروں کو ٹیگ بھی کیا۔تاہم پسِ پردہ، ایک باخبر ذریعے کے مطابق، وائٹ ہاؤس اس بیان کو شہباز شریف کے پوسٹ کرنے سے پہلے ہی دیکھ چکا تھا اور اس کی منظوری دے چکا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی رابطے سوشل میڈیا پر ظاہر ہونے والے پیغام سے کہیں زیادہ سرگرم تھے۔
اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ وائٹ ہاؤس حتیٰ کہ جب صدر ٹرمپ ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں تہران کی تہذیب کو مٹا دینے کی دھمکی دے رہے تھے ، منگل کو ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ ساتھ اس بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا تھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستانی سفارت خانے نے اس معاملے پر فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔